Friday, April 22, 2011

Tere Khayaal Mein


~ For a friend, whose all time favourite is Mohsin Naqvi.

8 comments:

Anonymous said...

Last sher is just amazing!!

Rida said...

its a piece of beauty..:)

SHER said...


دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

شورش سے بھاگتا ہوں، دل ڈھونڈا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقدیر بھی فدا ہو

آزاد فکر سے ہوں، عزلت میں دن گزاروں
دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو

گل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا
ساغر ذرا سہ گویا ، مجھکو جہاں نما ہو

مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبل
ننھے سے دل میں اسکے کٹھکا نہ کچھ میرا ہو

ہو دلفریب ایسا کوہسار کا نظارہ
پانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہو

پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی
جیسے حسین کوئی آینہ دیکھتا ہو

راتوں کو جلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم
امید انکی میرا ٹوٹا ہوا دیہ ہو

پچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذان
میں اسکا ہمنوا ہوں وہ میری ہمنوا ہو

کانوں پے ہو نہ مرے دیر و حرم کا احسان !
روزن ہی جھونپڑے کا مجھکو سازنما ہو

پھولوں کو آے جسدم شبنم وضو کرانے
رونا میرا وضو ہو نالہ میری دعا ہو

اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو

ہر دردمند دل کو رونا میرا رلا دے
بیہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے

علامہ محمّد اقبال

Post them also. a contribution from my side

SHER said...

عذاب وحشت جان کا صلہ نہ مانگے کوئی
نۓ سفر کے لیے راستہ نہ مانگے کوئی
بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی


افتخار عارف

SHER said...

مکین خوش تھے کہ جب بند تھے مکانوں میں
کھلے کواڑ تو تالے پڑے زبانوں میں
درخت ماؤں کی مانند انتظار میں ہیں
طیور لوٹ کر نہ آۓ آشیانوں میں
ہوا کی زد پے بھی دو ایک چراغ روشن ہیں
بلا کے حوصلے دیکھے ہیں سخت جانوں میں

احمد فراز

SHER said...


آؤ وعدہ کریں
آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم
دیدہِ دل کی بے انت شاہی میں ہم
زیرِ دامانِ تقدیسِ لوح و قلم
اپنے خوابوں، خیالوں کی جاگیر کو
فکر کے موءقلم سے تراشی ہوئی
اپنی شفاف سوچوں کی تصویر کو
اپنے بے حرف ہاتھوں کی تحریر کو، اپنی تقدیر کو
یوں سنبھالیں گے، مثلِ چراغِ حرم
جیسے آندھی میں بے گھر مسافر کوئی
بجھتی آنکھوں کے بوسیدہ فانوس میں
پہرہ داروں کی صورت چھپائے رکھے
جانے والوں کے دھندلے سے نقشِ قدم
آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم - پھر ارادہ کریں
جتنی یادوں کے خاکے نمایاں نہیں
جتنے ہونٹوں کے یاقوت بے آب ہیں
جتنی آنکھوں کے نیلم فروزاں نہیں
جتنے چہروں کے مرجان زرداب ہیں
جتنی سوچیں بھی مشعلِ بداماں نہیں
جتنے گل رنگ مہتاب گہناگئے - جتنے معصوم رخسار
مرجھا گئے
جتنی شمعیں بجھیں ، جتنی شاخیں جلیں
سب کو خوشبو بھری زندگی بخش دیں، تازگی بخش دیں
بھر دیں سب کی رگوں میں لہو نم بہ نم
مثلِ ابرِ کرم رکھ لیں سب کا بھرم
دیدہ و دل کی بے انت شاہی میں ہم
زخم کھائیں گے حسنِ چمن کے لئیے
اشک مہکائیں گے مثلِ رخسارِ گل
صرف آرائشِ پیرہن کے لئیے، مسکرائیں گے رنج و غم
دہر میں
اپنی ہنستی ہوئی انجمن کے لئیے
طعنِ احباب، سرمایہ کج دل، بجز اغیار سہہ لیں گے
فن کے لئیے
آؤ وعدہ کریں
سانس لیں گے متاعِ سخن کے لئیے
جان گنوائیں گے ارضِ وطن کے لیے
دیدہ و دل کی شوریدگی کی قسم
آسمانوں سے اونچا رکھیں گے عَلم
آؤ وعدہ کریں
آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم

۔۔۔ محسن نقوی ۔۔۔

Unknown said...

boht khoob ....

Ambareen said...

@ Sher: Thanks for your contribution.

@ Raheem: I wasn't really a fan of Mohsin Naqvi, but I didn't dislike him either. I was just unaware of most of his works. Still am. But I've started googling him and from the little I've found so far, his work is impressive.

@ Silent Suffering: Glad you liked it.