Sunday, June 28, 2009

المیہ

جو گھر سے دور ہوتے ہیں

بہت مجبور ہوتے ہیں

کبھی باغوں میں سوتے ہیں

کبھی چھپ چھپ کے روتے ہیں

گھروں کو یاد کرتے ہیں

تو پھر فریاد کرتے ہیں

مگر جو بے سہارا ہوں

گھروں سے بے کنارہ ہوں

انہیں گھر کون دیتا ہے

یہ خطرہ کون لیتا ہے


بڑی مشکل سے اک کمرہ

جہاں کوئی نہ ہو رہتا

نگر سے پار ملتا ہے

بہت بے کار ملتا ہے

تو پھر دو چار ہم جیسے

ملا لیتے ہیں سب پیسے

اور آپس میں یہ کہتے ہیں

کہ مل جل کر ہی رہتے ہیں

کوئی کھانا بنائے گا

کوئی جھاڑو لگائے گا

کوئی دھوئے گا سب کپڑے

تو رہ لیں گے بڑے سکھھ سے


مگر گرمی بھری راتیں

تپش آلود سوغاتیں

اور اوپر سے عجب کمرہ

گھٹن اور حبس کا پہرہ

تھکن سے چور ہوتے ہیں

سکوں سے دور ہوتے ہیں

بہت جی چاہتا ہے تب

کہ ماں کو بھیج دے یا ربّ

جو اپنی گود میں لے کر

ہمیں ٹھنڈی ہوا دے کر

سلا دے نیند کچھھ ایسی

کہ ٹوٹے پھر نہ اک پل بھی


مگر کچھھ بھی نہیں ہوتا

تو کر لیتے ہیں سمجھوتا

کوئی دل میں بلکتا ہے

کوئی پہروں سلگتا ہے

جب اپنا کام کر کے ہم

پلٹتے ہیں تو آنکھیں نم

مکاں ویران ملتا ہے

بہت بے جان ملتا ہے

خوشی معدوم رہتی ہے

فضا مغموم رہتی ہے


بڑے رنجور کیوں نہ ہوں

بڑے مجبور کیوں نہ ہوں

اوائل میں مہینے کے

سب اپنے خوں پسینے کے

جو پیسے جوڑ لیتے ہیں

گھروں کو بھیج دیتے ہیں

اور اپنے خط میں لکھتے ہیں

ہم اپنا دھیان رکھتے ہیں

بڑی خوش بخت گھڑیاں ہیں

یہاں خوشیاں ہی خوشیاں ہیں


3 comments:

Anonymous said...

i want meray humdam meray dost by farhat ishtiaq in gif format plzzzz help

Anonymous said...

send me this novel meray humdam meray dost on mehak_chrysanthemum@hotmail.com

Ambareen said...

I'm sorry I don't have this or any other novel. I just share my poetry collection on this blog.